بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ریسٹ ہاوس کے بیت الخلا میں کود گیا جس کا دروازہ باہر سے بند تھا, تیندوا کتے کے پیچھے داخل تو ہو گیا مگر دونوں پھنس گئے, کتا تیندوے کو دیکھ کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرتا رہا کہ تیندوا کب اسے نوالہ بناتا ہے, دونوں جانور تقریباً 12 گھنٹے تک مختلف کونوں میں اکٹھے رہے۔ پھر محکمہ جنگلات کی ٹیم نے ٹرانکوئلائزر ڈارٹ کا استعمال کرتے ہوئے تیندوا پکڑ کر آزاد کر دیا ,, اب سوال یہ ہے کہ بھوکے تیندوے نے کتے کو کیوں نہیں کھایا حالانکہ وہ اسے کھانے کیلئے ہی پیچھا کر رہا تھا جبکہ بند واش روم میں وہ یہ کام آسانی سے کر سکتا تھا؟ اس حوالے سے جنگلی حیات کے ماہرین نے بتایا کہ جنگلی جانور اپنی آزادی کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں۔ جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی آزادی چھین لی گئی ہے وہ گہرا دکھ محسوس کر سکتے ہیں، اتنا کہ وہ اپنی بھوک پیاس بھی بھول جاتے ہیں بینظیر انکم سپورٹ کارڈ ، آٹے کی قطاریں ، لنگر خانے اور پھر مفت راشن کیلئے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم یہ کبھی نہی جان سکتی کہ آزادی ہی زندگی ھے۔
بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک تیندوا پیٹ بھرنے کیلئے کتے کا پیچھا کر رہا تھا,, کتا بھاگتے ہوئے کھڑکی سے سرکاری ریسٹ ہاوس کے بیت الخلا میں کود گیا جس کا دروازہ باہر سے بند تھا, تیندوا کتے کے پیچھے داخل تو ہو گیا مگر دونوں پھنس گئے, کتا تیندوے کو دیکھ کر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور انتظار کرتا رہا کہ تیندوا کب اسے نوالہ بناتا ہے, دونوں جانور تقریباً 12 گھنٹے تک مختلف کونوں میں اکٹھے رہے۔ پھر محکمہ جنگلات کی ٹیم نے ٹرانکوئلائزر ڈارٹ کا استعمال کرتے ہوئے تیندوا پکڑ کر آزاد کر دیا ,, اب سوال یہ ہے کہ بھوکے تیندوے نے کتے کو کیوں نہیں کھایا حالانکہ وہ اسے کھانے کیلئے ہی پیچھا کر رہا تھا جبکہ بند واش روم میں وہ یہ کام آسانی سے کر سکتا تھا؟ اس حوالے سے جنگلی حیات کے ماہرین نے بتایا کہ جنگلی جانور اپنی آزادی کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں۔ جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی آزادی چھین لی گئی ہے وہ گہرا دکھ محسوس کر سکتے ہیں، اتنا کہ وہ اپنی بھوک پیاس بھی بھول جاتے ہیں بینظیر انکم سپورٹ کارڈ ، آٹے کی قطاریں ، لنگر خانے اور پھر مفت راشن کیلئے سالوں سے ذلیل ہونے والی قوم ی...